فَتَأْوِيلُهُ إِذَا كَانَ ذَلِكَ مَعْنَاهُ : وَلِلَّهِ مَا بَيْنَ قُطْرَيِ الْمَشْرِقِ وَقُطْرَيِ الْمَغْرِبِ، إِذَا كَانَ شُرُوقُ الشَّمْسِ كُلَّ يَوْمٍ مِنْ مَوْضِعٍ مِنْهُ لَا تَعُودُ لِشُرُوقِهَا مِنْهُ إِلَى الْحَوْلِ الَّذِي بَعْدَهُ ، وَكَذَلِكَ غُرُوبُهَا، انْتَهَى مِنْهُ بِلَفْظِهِ إضافة إلى الشمس والقمر قد تكون جميع الأجرام السماوية التي تشرق وتغرب بالنسبة لكرتنا الأرضية مقصودة أيضًا بهذه الآية
و در اختلاف مشرقين و مغربين انواع فوائد و منافع مندرج است از اختلاف فصول و حدوث آنچه بهر فصلى تعلق دارد و معذلك شروق آفتاب موجب طلب معيشت، و غروبش سبب آسايش و راحت و «1» تفسير برهان ج 4 ص 265

الإعجاز في القرآن الكريم إبراهيم المظالي

كما جاء في نفس الموسوعة أن للأرض حركتان: واحدة حول نفسها ـ أو محورها المائل ـ من الغرب إلى الشرق تستغرق 23 ساعة و57 دقيقة بسرعة تقارب 465 مترًا في الثانية في المنطقة الاستوائية.

28
إعراب الآية 19 إلى 41 من سورة الرحمن إعراب القرآن
تبدو هذه الآية في الوهلة الأولى وكأنها تشير إلى حدود المشرقين والمغربين
فهم جديد لصيغ المشارق والمغارب في القرآن
أو المراد : مشارق النجوم والكواكب والشمس والقمر
تفسير قوله تعالى : ( رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ )
ففي سورة الشعراء جاء ذكر المشرق والمغرب في صيغة المفرد، وهذا ما نلاحظه في كل لحظة، فأينما كنا وحيثما وجدنا رأينا للشمس مشرقًا ومغربًا، وبما أن الأرض تدور حول نفسها وحول الشمس دون توقف فهناك مشارق ومغارب متتالية في الزمان والمكان
خالد بن حمزة مدني يوجد في القرآن الكريم عدد كبير من الآيات الكونية سخرت لتكون أولاً برهانًا لإثبات وجود الخالق الواحد الأحد وإقامة الحجة على ذلك من خلال التفسير العلمي الذي لا ينكره منصف ولا يرفضه عقل رشيد، وثانيًا هداية للعلماء في أبحاثهم تقودهم إلى النتائج الصحيحة، والحقيقة الكونية خدمة للبشرية جمعاء؛ تنور طريقهم، وتخرجهم من الظلمات إلى النور وَقَالَ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ ، وَذَلِكَ بِاخْتِلَافِ مَطَالِعِ الشَّمْسِ وَتَنَقُّلِهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ، وَبُرُوزِهَا مِنْهُ إِلَى النَّاسِ
وفي فصل الشتاء تشرق الشمس من أدنى المشرق وتغرب في أدنى المغرب كما نعرف كذلك أنه ما من آية في القرآن الكريم تحدثت عن أمر من أمور الدنيا أو الآخرة إلا وقد استوعبت وصف هذا الأمر بأحسن عبارة وأدقها

إعراب الآية 19 إلى 41 من سورة الرحمن إعراب القرآن

وهذا ما أريد في إطار التفسير العلمي إظهاره.

8
معنى المشرقين ورب المغربين
الرحمن 14,15 بالقرآن الكريم مهتدين في ذلك بالآية الكريمة: حَتَّى إِذَا جَآءَنَا قَالَ يَا لَيْتَ بَيْنِى وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِينُ
الآية: رب المشرقين ورب المغربين
مشرقین و مغربین میں موجودہستیاں اوران کےواقعات: یہ جوفقرہےیہ تمہارا مشرق ہے۔ مشرق والے اتنے ٹیڑھے تھے کہ اُن کوہدایت دینے کیلئے حضور پاکؐ اورسات سلطان بنا کرمشرق میں رکھے کہ سب مل کران کوہدایت دینا۔ جودوسری طرف مغرب تھا اُس طرف صرف ایک ہی رُخ رکھا،ایک ہی جلوہ رکھا اوروہ جلوہ امام مہدیؑ میں رکھا۔ امام مہدیؑ کا تعلق نہ سلطانوں سے ہے، نہ عاشقوں سے ہے، نہ نبیوں سے ہے اورنہ ولیوں سے ہے۔ امام مہدیؑ کا تعلق کسی سے نہیں ہے کیونکہ وہ مغرب والے ہیں۔ پھرحضورپاک نے آخرمیں یہ آ کرکہا کہ لا تقوم الساعتہ حتى تطلع الشمس من مغربھا راوی البخاری 4635 ومسلم 157 ترجمہ: ایک زمانہ آئے گا کہ سورج مغرب سے نکلےگا۔ لوگ انتظار کررہے ہیں کہ سورج مغرب سے طلوع ہوگا لیکن یہ کبھی نہیں ہوگا کیونکہ یہ اس سورج کےطلوع ہونےکی بات نہیں ہورہی ہے۔ ایک حدیث شریف میں یہ بھی لکھا ہے کہ اُس وقت تک امام مہدی کا ظہور نہیں ہوگا جب تک سورج کےساتھ اُن کی کوئی نشانی ظاہر نہ ہوجائے۔ سورج کے ساتھ جونشانی ظاہی ہوئی وہ سرکار گوھر شاہی کاایک جثہ مبارک تھا۔ پاکستان کے شہرملتان میں بہت گرمی پڑتی تھی۔ جب سرکارگوھرشاہی کا وجودِ مبارک زمین پرآیا ہے تواُس کی وجہ سے اُس کی کاٹ ہوئی ہے ورنہ اس سے پہلے ہرسال گرمیوں میں ملتان کے اندر بہت لوگ مرتے تھے۔ سرکارگوھر شاہی کاایک وجودِ مبارک سورج پرہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ امام مہدی کی نشانی بتاؤاورحدیث میں لکھا ہے کہ امام مہدیؑ اُس وقت تک اظہارہی نہیں کریں گے کہ جب تک وہ جوسورج کےاوپراُن کاچہرہ مقیم ہے وہ زمین پرمشتہر نہ ہوجائے۔ یہ طلوع کا ذکرسرکارگوھرشاہی کےچہرہ مبارک سے جڑا ہواہے کیونکہ جوحدیث شریف کے الفاظ ہیں کہ تطلع یعنی نشانی طلوع ہوگی لیکن یہ نہیں لکھا کہ ظاہرہوگی۔ امام جعفر صادق نے بھی جوچاند پرامام مہدیؑ کے حوالے سے بات کی ہے اُس میں بھی یہی لفظ استعمال کیا ہے قال: وجہ یطلع فیی القمر، وید بارزۃ کتاب الغیبۃ ص347 امام مہدیؑ کاجو چہرہ ہوگا وہ چاند میں طلوع ہوگا۔ چاند طلوع نہیں ہوگا بلکہ چہرہ طلوع ہوگا۔ جس کو ہم چاند سمجھ رہے ہیں وہ چاند نہیں چہرہ ہے۔ مغرب کےاندراللہ نےایک سلسلہ چلایا ہواتھا۔ وہ سلسلہ یہ تھا کہ تاکہ میرے مغرب کومشرق والے بھول نہ جائیں۔ اُس میں تھوڑاتھوڑا وہ زکوٰۃ وخیرات نکال کربانٹتا اورایسےلوگوں کوچُنتاجن کوبراہِ راست، بغیرمذہب، بلاوسیلہ اوربلاواسطہ اپناعشق عطا کرتا جیسے اللہ کےولی سرمد تھے،جیسے سچل سائیں تھے، جیسےجھولےلال تھے۔ یہ مغرب والےہیں۔ ان کوجب مولویوں نے کہاکہ نمازپڑھو توانہوں نےکہا نہیں بلکہ یارہی سب کچھ ہے۔ ایک دفعہ سیدنا امام مہدی گوھرشاہی داتا صاحب کی مسجدمیں نماز پڑھنے کیلئےگئے۔ اب پہلےہی سےمسجد بھری ہوئی تھی توسرکارگوھر شاہی آخری صف میں کھڑے ہوئے اورسرکارگوھرشاہی کےآنےسےپہلےہی ایک بندہ وہاں جوتیاں ڈھونڈ رہاتھا۔ جب سرکارگوھرشاہی نمازپڑھ کرفارغ ہوگئے تودیکھا کہ وہ بندہ جوتیاں دیکھ رہا تھا اورجوتیاں سیدھی کررہا تھا توسرکار گوھرشاہی نے اُس کوکہا کہ تم کوجوتیاں سیدھی کرکے کیاملےگا اورتم نےنماز بھی چھوڑدی تواُس نےکہاکہ نماز کیا ہے بس یارکی ادامل جائے کافی ہے۔ وہ غوثِ اعظم کاپوتا حیات الامیر تھا۔ عام آدمی کوکیاپتہ کہ آج جوتی سیدھی کرنی چاہیئے۔ عام آدمی کوکیاپتہ کہ آج وہ یہاں آرہاہے آج جوتی سیدھی کرلو۔ اُس کوجوتی سیدھی کرنےکاایک موقع ملا اوروہ کتنا خوش قسمت ہے۔ مجھے تعداد یاد نہیں لیکن میں اندازہ کروں تومعلوم ہوگا کہ کم ازکم ایک ہزارمرتبہ میں نے سرکارکی جوتیاں اُٹھائی ہیں، سینے سے بھی لگائی ہیں، آنکھوں سے بھی لگائی ہیں اورپھرسرکار گوھر شاہی کوپہنائی بھی ہیں۔ ہم لوگوں پرکتناکرم ہوگیا اوریہ تومیرااپناواقعہ ہے تومیں اس میں اکیلا نہیں ہوں بلکہ ہزاروں لوگ ہیں جن کوسرکار گوھرشاہی کی جوتیاں سیدھی کرنے کاموقع ملا۔ یہ معمولی بات نہیں ہے۔ جو دہلی میں نظام الدین اولیاء ہیں ان کے ایک مرید نے کہا کہ حضرت صاحب آپ کی چپل ٹوٹی ہوئی ہے میں گندواکرلےآتا ہوں توآپ نےکہاکہ لےآؤ۔ جب وہ مرید وہاں سے روانہ ہوا تواُس نے وہ جوتیاں سرپررکھ لیں اوروہ سرپرجوتیاں رکھ کرجارہا ہے۔ جب راستے میں لوگوں نے دیکھا تو انہوں نےکہا کہ ایسا تونہیں ہوتا کہ کوئی جوتیاں سر پررکھ کرجائے۔ پھرلوگوں نےاُس مرید کوپوچھاکہ یہ کس کی جوتیاں ہیں تواُس نے کہاکہ یہ جوتیاں اللہ کی ہیں اورجوبھی پوچھے کہ یہ جوتیاں کس کی ہیں تو وہ کہے کہ یہ اللہ کی جوتیاں ہیں اسی لئے توسرپررکھی ہیں۔ جب وہ موچی کے پاس آگیا توجب موچی نے یہ ماجرہ دیکھا تو موچی نے سوچاکہ یہ بھوکا ہے اسی لئے ایسی بہکی بہکی باتیں کررہا ہے۔ موچی نےکھانا منگوایا اورٹھنڈا پینے کیلئے منگوایا۔ جب مرید نے کھانا کھالیا تو پھرموچی نے توقف کےساتھ پوچھا کہ یہ کس کی جوتیاں ہیں تواُس نےکہا کہ یہ اللہ کی جوتیاں ہیں۔ موچی پریشان ہوگیا اوروہ دورقاضیوں کا تھا اورقاضی وہ ہوتا ہے جوسزامقررکرتا ہے۔ موچی نےقاضی کوبلالیا۔ قاضی نے بھی اُسے پیار سےپوچھا کہ یہ جوتیاں کس کی ہیں تواُس نےکہاکہ یہ جوتیاں اللہ کی ہیں۔ اب اُس بندے کا ایمان اپنےمرشدپراتنا مضبوط تھا اوراُسےپتہ تھا کہ یہ اب مجھےماردیں گےلیکن وہ اپنےقول پرقائم رہا۔ اُس مرید کے اس جرأت اورمردانگی پرنظام الدین کوترس آگیا اوروہاں سے انہوں نےاپنے مریدوں کو کہاکہ چلوتماشہ دیکھتے ہیں۔ جب وہ آئے توانہوں نےدیکھا کہ مجمع لگاہوا ہے اوردرمیان میں قاضی اور اُن کامرید چپل لےکرکھڑے ہیں۔ نظام الدین اولیاء نے آواز دے کرقاضی کوکہا کہ قاضی صاحب کیامعاملہ ہے۔ اُس زمانے میں ولیوں کی عزت ہوتی تھی توقاضی بھی عزت کرتا تھا۔ قاضی نے بہت ادب سے کہا کہ حضور! Check in YouTube if the id belongs to a username
—» «бг‘—ёнд ж—» «бгџ—»нд1
إذَن إذا تصورنا هذه الحالة الخاصة ـ وجود حالة شروق وغروب في كل لحظة ـ وعممناها على كل بقع الأرض سنجد أن شكل هذه الأخيرة كروي، مما يدل على أن صيغة المفرد هاته استعملت إشارة إلى شكل الأرض فقط