حکومت نے ڈالر مارکیٹ ریٹ سے مہنگا فروخت کرنے والی ایکسچینج کمپنیوں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کیا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ٹیسٹ شدہ کرنسی ریٹ سے انحراف کرنے والی کمپنیوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔جب کہ ایمنسٹی سکیم کے تحت اثاثے ظاہر نہ کرنے والوں کے خلاف مجوزہ کاروائی پربھی غورکیا گیا۔اجلاس میں وفد نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایس ای سی پی مقررہ حد سے زیادہ کرنسی فروخت کرنے والی کمپنیوں کا ساتھ نہیں دے گا۔اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ ڈالر کی مارکیٹ قیمت خرید 143 روپے 50 پیسے اور قیمت فروخت 144 روپے ہے۔ سعودی ریال کی قیمت خرید 38 روپے 20 پیسے اور قیمت فروخت 38 روپے 35 پیسے ہے۔وزیراعظم عمران خان سے کرنسی ڈیلرز عہدیداروں کی ملاقات ہوئی۔جس میں اتفاق کیا گیا کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خرید 143 روپے 50 پیسے اور قیمت فروخت 144روپے رہے گی۔جب کہ دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں دو روپے پچیس پیسے کمی ہوئی جس کے بعد ڈالر دوبارہ 144 روپے کا ہو گیا۔ اوپن مارکیٹ میں تیزی کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی ہوئی۔ یاد رہے کہ آج صبح کاروباری دن کے آغاز پر اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں دو روپے کا اضافہ ہوا تھا جس کے بعد ڈالرکی قیمت 146 روپے ہو گئی تھی تاہم مارکیٹ میں تیزی کے بعد ڈالر کی قیمت دوبارہ 144 روپے کی سطح پر واپس آ گئی ہے۔جبکہ دوسری جانب انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت تاحال مستحکم ہے جہاں ڈالر 141 روپے 39 پیسے پرفروخت ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں دو روپے کا اضافہ ہوا تھا جس کے بعد ڈالر کی قیمت 144 روپے ہو گئی۔گذشتہ ہفتے کے دوران ڈالر تین روپے مہنگا ہوا۔ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ اور روپے کی قدر میں ہونے والی مسلسل کمی باعث تشویش ہے کیونکہ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خدشہ ہے۔واضح رہے کہ آئی ایم ایف سے ہونے والے مذاکرات کے بعد ماہرین معاشیات نے ڈالر کی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس حوالے سے حال ہی میں ایک رپورٹ بھی سامنے آئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکج ملنے کے بعد پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ کچھ ماہرین معیشت نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکج ملنے کے بعد پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت روپے کے مقابلے میں 160 روپے تک جا سکتی ہے۔تاہم اس حوالے سے صورتحال آنے والے دنوں میں واضح ہوگی۔ جبکہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ممکنہ معاہدے کے خوفناک اثرات بھی سے سامنے آنے لگے ہیں۔ آئی ایم ایف سے ممکنہ معاہدے کی وجہ سے کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں ایک ہفتے کے دوران تین روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا ۔ تاہم آج ہفتے کے آغاز پر ڈالر کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ ہو گیا ہے جبکہ آگے بھی ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ کرونا کورونا وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں تقریباً چار ارب افراد کے لاک ڈاؤن میں چلے جانے کے بعد پٹرول، جیٹ ایندھن اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی مانگ میں کمی کی وجہ سے تیل کی قیمتیں زمین بوس ہو گئیں۔ قیمتوں میں گراوٹ اس قدر بھیانک تھی کہ انسانی تاریخ میں پہلی بار فروخت کنندگان کو خریداروں کو تیل کے ساتھ ساتھ رقم بھی ادا کرنا پڑی، مطلب تیل کی قیمتیں منفی حد تک گر گئی تھیں۔ اس کے نتیجے میں تیل پر انحصار کرنے والی معیشتیں زوال کا شکار ہیں۔ معروف جریدے 'فارن پالیسی' کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ملک امریکہ میں صرف دو ماہ کے دوران تیل کے کنوؤں کی کھدائی میں 50 فیصد تک کمی واقع ہوچکی ہے۔ اسی طرح تقریباً 40 فیصد تیل اور گیس کی فروخت متاثر ہونے سے اس صنعت میں کام کرنے والے دو لاکھ 20 ہزار ملازم اپنی ملازمتوں سے محروم ہو جائیں گے۔ دنیا بھر میں نائجیریا سے عراق اور قازقستان سے وینزویلا تک تیل پیدا کرنے والے ممالک اس صورت حال میں اپنی بقا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کی کرنسیاں تاش کے پتوں کی طرح ڈھیر ہو رہی ہیں۔ اگرچہ 2020 کو تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے 'قاتل سال' کے طور پر یاد کیا جائے گا، تاہم اس صورت حال میں کم سے کم ایک ایسا ملک ہے جو معاشی اور جغرافیائی سیاست کے لحاظ سے کامیابی سے اس بحران سے نکل آئے گا، اور وہ ملک ہے سعودی عرب۔ سب سے پہلے سعودی عرب یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کی معیشت اس طرح کے طوفان کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ درحقیقت تیل کی کم قیمتیں اس ملک کے لیے بھی اتنی ہی تکلیف دہ ہیں جتنا باقی تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے۔ ریاض کو اپنے عوامی بجٹ کو متوازن بنانے کے لیے تیل کی قیمت کو تقریباً 80 ڈالرز فی بیرل تک لے جانے کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مالیاتی ادارے موڈی نے گذشتہ جمعے سعودی عرب کی مالی رینکنگ کم کردی تھی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں Related Nodes field سعودی عرب کو 2020 کی پہلی سہ ماہی میں نو ارب ڈالرز کے خسارے کا سامنا ہے۔ دوسری قوموں کی طرح سعودی عرب میں بھی ٹیکس کی آمدنی میں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ اس نے بھی باقی دنیا کی طرح کرونا وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے معاشی پابندیاں عائد کی ہیں۔ گذشتہ ہفتے سعودی وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ سرکاری اخراجات کو انتہائی کم کرنے کی ضرورت ہوگی اور ولی عہد کے ویژن 2030 کے اقتصادی منصوبوں کے کچھ حصے تاخیر کا شکار ہو جائیں گے۔ اس سب کے باوجود زیادہ تر تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک کے برعکس سعودی عرب نے نہ صرف اپنے مالی ذخائر کو استعمال کیا ہے بلکہ قرض لینے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔ 22 اپریل کو سعودی وزیر خزانہ نے اعلان کیا تھا کہ 2020 میں سلطنت 58 ارب ڈالرز کا قرض لے سکتی ہے۔ بیشتر دوسری معیشتوں کے مقابلے میں سعودی عرب کی قرض کی شرح اس کے جی ڈی پی کے تناسب سے کم ہے، 2019 کے آخر تک یہ شرح 24 فیصد تھی، حالانکہ اس کے بعد ان اعداد و شمار میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ سلطنت کے وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب اپنے مالی ذخائر سے 32 ارب ڈالرز نکال لے گا۔ مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 474 ارب ڈالرز موجود ہیں جس نے اس کی کرنسی ریال کو گرنے سے بچا رکھا ہے۔ دوسرا یہ کہ عالمی اقتصادی بحران کے نتیجے میں پیداواری کٹوتیوں اور شٹ ڈاؤن کی وجہ سے سعودی عرب کے تیل کی کم آمدنی عالمی منڈیوں میں استحکام آنے کے بعد دوبارہ بڑھ جائے گی۔ آنے والے برسوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ سعودی عرب کے لیے بڑھتی ہوئی آمدنی کی بنیاد رکھتا ہے۔ اگرچہ مستقبل میں تیل کی طلب کے بارے میں تخمینہ انتہائی غیر یقینی ہے تاہم ایک بار جب دنیا اس بحران سے نکل آئی گی تو تیل کی فراہمی کے مقابلے میں طلب میں تیزی سے اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ کرونا وبا کے بعد سعودی عرب کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر خلیجی ریاستوں اور روس کو نہ صرف قیمتوں سے زیادہ فائدہ ہوگا بلکہ در حقیقت مارکیٹ کے حصص میں اضافے اور مزید تیل فروخت کرنے کے مواقعے ملیں گے۔ اب ان حالات میں بھی جب قیمتوں میں شدید گراوٹ کا سامنا ہے، سعودی عرب اور کویت اپنے مشترکہ آئل فیلڈ سے مزید تیل مارکیٹ میں لانے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ اس سے اقتصادی طور پر کمزور اوپیک ارکان کو سپلائی دوبارہ شروع کرنے اور اسے برقرار رکھنے میں سرمایہ کاری کرنا مشکل ہوسکتا ہے جس سے ان کی پیداوار میں اضافہ سست ہو جائے گا۔ 1998-1999 میں تیل کے بحران کے بعد ایران، عراق، نائجیریا اور وینزویلا میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ اب آخر کار امریکہ کے ساتھ اتحاد سے کنارہ کر کے اور خود کو عالمی منڈی میں زیادہ پیداوار کے حامل ملک کی حیثیت بحال کر کے سعودی عرب نے اپنی جغرافیائی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے۔ تیل کی بھرمار سے دنیا کے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں کمی اور اوپیک اور دیگر اہم پروڈیوسرز کی جانب سے پیداوار میں تاریخی کٹوتی سے صارفین نے سعودی عرب کا رخ کیا ہے۔ ٹیکساس میں تیل کے پیداواری کوٹے پر مذاکرات ہوں یا جی ٹوئنٹی فورم کے تحت ایک نیا عالمی 'آئل کارٹیل' بنانے کی خواہش، پالیسی سازوں کے پاس ریاض کو منانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب طویل عرصے سے واحد ملک رہا ہے جس کی اضافی پیداواری صلاحیت اسے مارکیٹ میں تیزی سے سپلائی بحال رکھنے یا منقطع کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ اس صلاحیت نے ایک بار پھر دنیا پر واضح کردیا ہے کہ سعودی عرب کو نہ صرف تیل کی عالمی منڈی میں طاقت حاصل ہے بلکہ یہ اسے اہم جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ بھی فراہم کرتی ہے۔
سعودی عرب کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ سلطنت میں کرونا وائرس کے نئے کیسز کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 481 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ وزارت صحت کے بیان کے مطابق ان نئے کیسز میں سے 40 جدہ، 37 مدینہ اور 31 حائل کے شہر میں سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ کرونا کے سبب 29 افراد اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔ مملکت میں کرونا کے سبب ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 4823 تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ کرونا کے 602 مریضوں کے ٹیسٹ ریزلٹ منفی آئے ہیں جس کے بعد کرونا سے صحتیاب ہونے والے افراد کی کل تعداد 3 لاکھ 20 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

امریکی ڈالر، سعودی ریال، اماراتی درہم اور یورو کی قدروں میں اضافہ

کراچی: پی آئی اے چیف ایگزیکٹو آفیسر ارشد ملک نے سعودی عرب میں زائد کرایوں کا نوٹس لے لیا۔ ترجمان پی آئی عبداللہ خان کے مطابق قومی ایئر لائن کےسعودیہ عرب کی پروازوں میں اضافی کرائے وصولی کی شکایات پر پی آئی اے کے سی ای او ارشد ملک نے نوٹس لیتے ہوئے سخت ترین ایکشن لینے کی ہدایات کردیں۔ انہوں نے کہا کہ شکایات موصول ہوئیں ہیں کہ کچھ ایجنٹس اور عناصر نے زیادہ طلب سے فائدہ اٹھا کر اضافی کرایہ وصول کرنا شروع کردیا ہے، پی آئی اے کا کرایہ بشمول تمام ٹیکسس کے 84 ہزار روپے ہے، پرانے ٹکٹس کی ان پروازوں پر ریا کومڈیشن صرف 100 ڈالر ادا کرکے کروائی جاسکتی ہے، کوئی بھی ایجنٹ 4 سے 5 ہزار سے زائد کمیشن وصول نہیں کرسکتا جو کہ 84 ہزار کے کرائے میں شامل ہے، ٹکٹ کے پیسے اس سے زیادہ ادا نہ کریں اور اگر اس سے زیادہ کوئی طلب کرتا ہے تو فوراً پی آئی اے کو پر رپورٹ کریں۔ ترجمان نے کہا کہ پی آئی اے نے مسافروں کی سہولت کیلئے 28 مزید پروازوں کی اجازت طلب کررکھی ہے، اس سلسلے میں پی آئی اے انتظامیہ مسلسل سعودی حکام سے رابطے میں ہے، سی ای او پی آئی اے ارشد ملک نے پاکستان میں سعودی سفیر سے ملاقات کرکے اجازت کی استدعا بھی کی ہے، ایک یا دو دن تک اجازت ملنے کے بعد نشستیں با آسانی دستیاب ہوں گی، تمام مسافروں سے جو ابھی تک ٹکٹ حاصل نہیں کر پائے ان سے درخواست ہے دو دن انتظار کرلیں، بعد ازاں سہل طریقے سے ٹکٹ حاصل کریں، ہمیں ادراک ہے کہ زیادہ تر کرم فرماؤں کے اقامے 30 ستمبر سے پہلے معیاد پوری کررہے ہیں، اسی لیے ہم نے اضافی پروازیں کی درخواست 20 تا 30 ستمبر کے درمیان کی کررکھی ہے، پی آئی اے کی جانب سے پروازوں کی تیاری مکمل ہے، اجازت ملتے ہی بکنگ کیلئے سسٹم میں دستیاب ہوں گی۔.

26
سعودی عرب میں سونے کی قیمت میں اضافہ
سعودی سی پورٹس پبلک اتھارٹی نے بندرگاہوں سے آمد ورفت پر مسافروں سے لی جانے والی فیس10 ریال کے بجائے فی مسافر 50ریال مقرر کر دی ہے جس پر عمل درآمد یکم جنوری 2021 سے ہوگا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کی کسی بھی بندرگاہ پر کسی بھی سائز کے جہازسے فی وزٹ کی فیس سو ریال اور روانگی فیس بھی سو ریال ہوگی جبکہ بندرگاہوں سے آمد ورفت پر مسافروں سے لی جانے والی فیس 10 ریال کے بجائے فی مسافر 50 ریال وصول کی جائے گی۔اتھارٹی نے کہا کہ گاڑیوں اور خود کار مشینوں سے فیس140 ریال وصول کی جائے گی بشرطیکہ ان کا وزن 3 ٹن سے کم ہو۔ ماضی میں تین ٹن سے کم وزنی خودکار مشین اور گاڑی کی فیس سو ریال ہوتی تھی۔ تین ٹن سے دس ٹن تک وزن والی گاڑی اور خودکار مشین کی فیس ڈیڑھ سو ریال کے بجائے دوسو ریال وصول کی جائے گی،10 ٹن سے چالیس ٹن تک وزنی گاڑی اور مشین کی فیس 400 ریال کے بجائے 450 ریال کردی گئی ہے جبکہ 40 ٹن سے زیادہ وزنی مشین پر ایک ہزار ریال کے بجائے 1350 ریال وصول کیے جائیں گے۔
امریکی ڈالر، سعودی ریال، اماراتی درہم اور یورو کی قدروں میں اضافہ
کراچی ویب ڈیسک ڈالر کی طلب میں کمی، جبکہ سعودی ریال کی طلب میں اضافہ ہوگیا، عمرہ سیزن کے عروج پر ہونے کے باعث عازمین کی جانب سے سعودی ریال کی خریداری میں اضافہ طلب بڑھنے کی وجہ بنا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ کچھ روز کے دوران پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں سعودی ریال کی طلب میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس حوالے سے مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دنوں عمرہ سیزن عروج پر ہے۔ پاکستان سے بڑی تعداد میں عازمین عمرے کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب کا رخ کر رہے ہیں۔ اسی لیے ان عازمین کی جانب سے سعودی ریال کی بڑی تعداد میں خریداری کی جا رہی ہے۔ اسی باعث کرنسی مارکیٹ میں سعودی ریال کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ جمعہ کے روز کاروباری روز کے اختتام پر سعودی ریال کی قیمت خرید 37
سعودی عرب میں سونے کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہو گیا؟
سعودی میڈیا کے مطابق وزارت داخلہ نے سعودیہ واپس آنے والے اپنے شہریوں کو پی سی آر ٹیسٹ سے متسثنیٰ قرار دے دیا۔ اس سے قبل مملکت میں داخلے کے لیے پی سی آر ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا تھا تاہم اب یہ پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ وزارت کی جانب سے 8 زمروں میں شامل سعودی شہریوں کو وطن واپس لوٹنے والوں کے لیے سہولت فراہم کرنا ہے۔ بیرون ملک سے واپس مملکت میں داخلے کے بعد سعودی شہریوں کو گھروں میں آئیسولیشن اختیار کرنا ہوگی اور کورونا ٹیسٹ کروانا ہوگا۔ ٹیسٹ مثبت آنے پر 7 روز تک آئیسولیشن میں رہنا ہوگا جب کہ منفی آنے کی صورت میں انہیں آمد و رفت کی اجازت ہوگی۔
عرب ریاستوں کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد سعودی عرب نے بھی پیٹرول کے نرخ بڑھا دیئے۔ میڈیا کے مطابق سعودیہ کی سرکاری پیٹرولیم کمپنی آرامکو کے مطابق ملک میں بینزین 91 پیٹرول کی قیمت 1 اسلام آباد: سعودی حکومت نے پاکستان کے لیے سفری پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سعودی عرب نے اقامہ اور وزٹ ویزے پر آنے جانے والوں پر عائد سفری پابندیاں ختم کر دی ہیں۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب پہنچنے کے بعد کرونا وائرس کے پیش نظر پی سی آر ٹیسٹ کرانا لازمی ہوگا، یہ ٹیسٹ سعودی عرب پہنچنے کے 48 گھنٹے کے اندر کرانا ہوگا۔یاد رہے کہ چند دن قبل سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ سعودی عرب میں یکم جنوری 2021 سے سفری پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کرونا وائرس کے باعث مملکت میں لگائی گئیں سفری پابندیاں اگلے سال کے آغاز ہی سے ختم کر دی جائیں گی۔
انھوں نے وضاحت کی کہ کورونا وبا کی وجہ سے اس بار مجالس پہلے سے محدود ہیں۔ لیکن گل زہرہ کے مطابق محرم کی روایتوں کا تقاضا گھر بیٹھ کر پورا نہیں ہو سکتا، اگرچہ رواں برس لوگ گھروں میں رہ کر اپنے خاندانوں کی حد تک عزاداری کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، لیکن تنہا بیٹھ کر کربلا کے بارے میں سوچنے یا سننے سے مقصد پورا نہیں ہوتا۔ سعودی عرب میں پیر 28 ستمبر کو سونے کے نرخوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق 24 قیراط ایک گرام سونے کے نرخ اتوار کو 224

سعودی حکومت کا پاکستان کے لیے سفری پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

مقامی کرنسی مارکیٹوں میں پاکستانی روپے کی بے قدری کا سلسلہ جاری ہے۔ پیرکو انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں اضافے کا رجحان رہا۔ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی امریکی ڈالر، یورو، برطانوی پائونڈ، سعودی ریال اور یواے ای درہم کی قدر میں اضافہ جبکہ چینی یوآن کی قدر میں استحکام رہا۔ فار ایکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق پیر کو انٹربینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید میں 2 پیسے اور قیمت فروخت میں 3 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گی۔ جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید 115.

19
سعودی عرب میں سونے کی قیمت میں اضافہ
اسلام آباد مانیٹرنگ ڈیسک پاکستانی روپیہ طاقتور ہو گیا ، ڈالر کی قیمت میں کمی۔۔۔ مقامی کرنسی مارکیٹوں میں جمعہ کو پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر 30پیسے کی مزید کمی سے 163
کرکٹ کا فروغ، سعودی عرب نے پاکستان سے مدد مانگ لی
کراچی مانیٹرنگ ڈیسک پاکستانی روپیہ رستم پہلوان بن گیا ، ڈالر کی قیمت میں کمی ۔۔۔ مقامی کرنسی مارکیٹوں میں جمعہ کو امریکی ڈالر سمیت دیگر غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری دیکھنے میں آئی اور انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں 50پیسے جب کہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں 10پیسے کی کمی ہوئی دیگر کرنسیوں میں یورو کی قدر میں 50پیسے اور برطانوی پانڈ کی قدر میں1
کیا سعودی عرب اور پاکستان کے بیچ دشمنی پیدا ہو گئی ہے ؟
ویب ڈیسک اسلام آباد : سعودی حکومت کی جانب سے سفری پابندیوں میں نرمی کے بعد پی آئی اے نے مسافروں کی بکنگ شروع کردی، پی آئی اے کا سعودی عرب کا آپریشن فعال تھا، تاہم اب پاکستان سے مسافربھی جاسکیں گے، پی آئی اے پاکستان سے سعودی عرب کی ہفتہ وار 23 پروازیں چلا رہا ہے، 30 ستمبر تک جدہ، مدینہ، ریاض اوردمام کیلئے مزید 28 پروازوں کی اجازت بھی طلب کرلی گئی ہے، وہ تمام مسافرجن کے پاس سعودی عرب کا رہائشی، اقامہ ہولڈر یا وزٹ ویزہ ہے، وہ سعودی عرب کا سفر کرسکتے ہے،ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا کہ سعودیہ جانے والے مسافروں کو 48 گھنٹے کے اندر کورونا کامنفی ٹیسٹ فراہم کرنا لازمی ہوگا ۔ کیٹاگری میں : ،
سال 2021ء کے لیے سعودی عرب کے مالیاتی میزانیے سے متعلق تمہیدی بیان جاری کر دیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق آئندہ سال کے دوران مجموعی اخراجات کا اندازہ 990 ارب ریال لگایا گیا ہے جب کہ اسی عرصے میں 846 ارب ریال کی مجموعی آمدنی متوقع ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس بات کی توقع ہے کہ رواں سال کے مقابلے میں 2021ء کے دوران سعودی عرب کی آمدنی میں 10% کے قریب اضافہ ہو گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 2021ء کے میزانیے کا خسارہ کم ہو کر مجموعی مقامی پیداوار کے 5% ہونے کی توقع ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 2021ء میں سعودی عرب کے میزانیے کا مذکورہ خسارہ آدھا ہو جانے کی توقع ہے۔ تخمیناتی رپورٹوں کے مطابق 2021ء میں سعودی عرب کے عام قرضے مقامی پیداوار کے 33% تک پہنچ جائیں گے۔ تمہیدی بیان میں کہا گیا ہے کہ 2020ء میں سعودی معیشت میں 3

روپے کی تنزلی اماراتی درہم اور سعودی ریال کی قیمت بھی بڑھ گئی

.

15
ڈالر کی مسلسل تنزلی لیکن سعودی ریال اور اماراتی درہم کا ریٹ اس وقت کیا چل رہا ہے؟مارکیٹ سے بڑی خبر آگئی
سونے کی قیمتوں میں دوسرے دن بھی کمی
سعودی عرب میں کرونا مریضوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ، 481 نئے کیسز